آپ ہم سے نہ ہوں جدا مرشد
ساتھ چاہے یہ دل سدا مرشد
جس کو آتی نہ ہو نبھانی، وہ
سیکھ لے آپ سے وفا مرشد
وہ گھڑی چین سے نہیں کٹتی
آپ ہوتے ہیں جب خفا مرشد
اپنی نظروں میں قید کر لیجے
ہونا چاہیں نہ ہم رہا مرشد
تم کو وہ بھی سنائی دیتی ہے
ہم نے دل میں جو دی صدا مرشد
آپ سے نام جڑ گئے جن کے
چاہیے ان کو اور کیا مرشد
ہم نے ہر اس کا احترام کیا
آ کے جس نے بھی ہے کہا مرشد
ہم نے تیری قسم اٹھائی ہے
تم کو دینا نہیں دغا مرشد
ہائے کتنوں نے فیض پایا ہے
میرے حق میں بھی اک دعا مرشد
پوری من کی مراد ساری ہو
راضی ہر دم رہے خدا مرشد
عالیہ شاہ
No comments:
Post a Comment