Saturday, 5 December 2020

میں اس سفر میں اکیلا چلا نہیں معلوم

 میں اس سفر میں اکیلا چلا، نہیں معلوم

یا کارواں بھی مرے ساتھ تھا، نہیں معلوم

کہاں پہ جا کے تھکن اوڑھ لے گی بسترِ شب

سفر شروع کہاں سے ہوا، نہیں معلوم

مرے لبوں پہ ہنسی کس کی رقص کرتی رہی

میں کس کے غم میں رہا مبتلا، نہیں معلوم

بچھڑ کے تجھ سے رہوں گا اداس کب تک میں

لگاؤں گا تجھے کب تک صدا، نہیں معلوم

کوئی بھی جاننے والا مِرا نہیں ہے یہاں

اور اپنے گھر کا مجھے راستہ نہیں معلوم

تمام عمر کٹی میری اس گماں میں کہ وہ

خفا ہوا تھا یا مجھ سے جدا، نہیں معلوم

یہ حال و حد تو مِرے اور کچھ بتاتے ہیں

رہا ہے مجھ میں کوئی با خدا، نہیں معلوم

میں ڈر رہا ہوں کہ پھر شام ہونے والی ہے

کہاں پہ رکھا ہوا ہے دِیا، نہیں معلوم

مری کہانی کی تکمیل ہونے والی ہے

ہے اس کہانی کا انجام کیا، نہیں معلوم

ہر ایک زخم ہرا لگ رہا ہے آج مجھے

بنا ہے کون مسیحا مرا، نہیں معلوم

گو سارا شہر ہی عباس تھا خلاف مرے

مری شکست تھی کس کی بقا نہیں معلوم


عباس مرزا

No comments:

Post a Comment