Saturday, 5 December 2020

وصیت میں کھلی آنکھ سے موت کو دیکھتا ہوں

 وصیت


میں نے بائیس برس ایک ہی آرزو اپنے سینے میں پالی

مجھے آرمی جوائن کرنا ہے ہر حال میں

لوگ ہنستے رہے

لاڈلے تم کہاں اور یونٹ کی لائف کہاں؟

تم سے شہزادوں کا خم تو پہلی دھلائی پہ پتلی گلی سے نکل جاتا ہے

تم مشقت کے طوفان کے سامنے ٹکنے والے کہاں ہو؟

یہیں پر رہو

اپنے ابا کا بازو بنو


پر مجھے اپنے خوابوں کی تکمیل کرنا ہی تھی

اپنے بے رنگ جیون میں مقصد کی رنگینی بھرنا ہی تھی

پیٹھ پر بوجھ لادے ہوئے

مارچ کرتے ہوئے میری آنکھوں سے منزل کسی پل نہ اوجھل ہوئی

میں ٹریننگ کے بے حد کڑے دن بھی 

ہنستے ہوئے بس اسی آس میں کاٹتا ہی رہا

راستے سہل ہو جائیں گے

اور ہو ہی گئے

پاسنگ آؤٹ کا دن آ گیا

اس تڑپتے بدن کو وطن کی حفاظت کی وردی ملی

یوں لگا آج ہی بے لباسی کی شرمندگی ختم ہونے کو ہے

یونیفارم سے پہلے تو شاید مرے تن پہ کپڑا نہ تھا

زندگی میں مگر نارسائی کا اک درد باقی تھا 

جو اک بیماری کی صورت مجھے آ لگا

زخم ادھڑا تو سینے کی دیوار تک پھٹ گئی

دل نے دھوکہ دیا

میں بیماری سے لڑتا ہوا اپنے بستر سے ہی آ لگا

میری منزل کے رستے پہ مایوسیوں کی گھٹا چھا گئی

میں کھلی آنکھ سے موت کو دیکھتا ہوں تو 

اس خوف سے اپنی خواہش کو لفظوں کی واضح وصیت میں نمٹا رہا ہوں

مجھے پی اے ایف میں کمیشن کسی ظاہری فائدے کو نہیں چاہئے تھا

میں یہ چاہتا تھا کہ ساری عمر کی ریاضت 

مری قبر میں میری خواہش کی تکمیل کا کچھ ذریعہ بنے

یوں کہ جب کاتبیں مجھ سے پوچھیں

ما ھذا محمدﷺ؟

میں یہ کہہ سکوں وہ میرا عشق ہیں

عشق جو ایک فوجی کو دھرتی سے ہوتا ہے ناں اس سے بھی بالاتر

جب میں دنیا سے پردہ کروں

آسماں کی طرف ہی اڑانیں بھروں

میرے خاکی بدن کو یونیفارم میں ہی دفن کرنا 

اور میری کیپ میرے سینے پہ دھرنا

لحد کی اونچائی مرے قد سے تھوڑی بڑی ہو

کہ آقائے کون و مکاںﷺ جونہی تشریف لائیں 

میں اٹھ کر انہیں ٹھیک سلیوٹ کر کے فرشتوں کو حیران کر دوں


اویس علی

No comments:

Post a Comment