Saturday, 5 December 2020

آگہی کرب ہے

آگہی کرب ہے


یار دنیا کسی نے کہا تھا؛ کہ اک فاحشہ ہے

بھلا مفلسی کے نوالوں پہ پلتے ہوئے لوگ مر جائیں کیا؟

زندگی گلتی سڑتی ہوئی لاش ہے

جانتے ہو نا تم، نہیں جاننا تھا

تعفن چھپا کر کھلے دل سے ہنسنا سبھی کا ہنر تو نہیں

یہ گٹھن کتنے چہروں کے نقش و نگاروں سے ہوتی ہوئی رِس رہی ہے یہاں

آنکھ میں تیرتی زندگی کی رمق سرخ دیناروں کی روشنی کے مقابل تو کچھ بھی نہیں

ایک خانہ بدوش اس بھرے شہر سے کوچ کرتے ہوئے اپنے بچے سے یہ کہہ رہی تھی

کہ سن میرے لختِ جگر

گھر ضروری نہیں

ہجرتیں پیڑھیوں سے چلی آ رہی ہیں ہماری وراثت میں ہی

ہجرتوں کی دکھن ان سے پوچھوں جنہیں تیرے دل سے نکالا گیا

جیسے ہم

ہم کو خانہ بدوشوں کی ہجرت سے بھی کچھ بڑے روگ ہیں

 "کوچ کرتے سمے ہم نے اک الوداعی نظر تجھ پہ ڈالی

 یہ خود سے کہا "تُو ضروری نہیں

جھوٹ تھا

خیر چھوڑو

خدا پوچھتا ہے؛

  کہو شام کی قتل گاہوں سے آتی ہوئی کیسی آواز ہے؟

کیا کہوں؟


جاناں شاہ

No comments:

Post a Comment