واعظ نہ سنے گا ساقی کی، لالچ ہے اسے پیمانے کی
مجھ سے ہوں اگر ایسی باتیں، میں نام نہ لوں میخانے کا
کیا جانے کہے گا کیا آ کر، ہے دور یہاں پیمانے کا
اللہ کرے واعظ کو کبھی، رستہ نہ ملے مۓ خانے کا
جنت میں پئے گا تو کیوں کر، اے شیخ یہاں گر مشق نہ کی
ہیں تنگ تیرے میکش ساقی، یہ پڑھ کے نماز آتا ہے یہاں
یا شیخ کی توبہ تڑوا دے، یا وقت بدل مۓ خانے کا
بہکے ہوئے واعظ سے مل کر، کیوں بیٹھے ہوئے ہو مۓ خوارو
گر توڑ دیا سب جام و سبو، کیا کر لو گے دیوانے کا
بادل کے اندھیرے میں چھپ کر، مۓ خانے میں آ بیٹھا ہے
گر چاندنی ہو جائے گی قمرؔ، یہ شیخ نہیں پھر جانے کا
قمر جلال آبادی
(اوم پرکاش بھنڈاری)
No comments:
Post a Comment