Tuesday, 6 December 2016

ایک پردیسی میرا دل لے گیا جاتے جاتے میٹھا میٹھا غم دے گیا

فلمی گیت


ایک پردیسی میرا دل لے گیا، جاتے جاتے میٹھا میٹھا غم دے گیا
کون پردیسی تیرا دل لے گیا، موٹی موٹی اکھیوں میں آنسو دے گیا
میرے پردیسیا کی یہی ہے نشانی، اںکھیاں بلور کی شیشے کی جوانی
ٹھنڈی ٹھنڈی آہوں کا سلام دے گیا، جاتے جاتے میٹھا میٹھا غم دے گیا

کون پردیسی تیرا دل لے گیا، موٹی موٹی اکھیوں میں آںسو دے گیا
ڈھونڈ رہے ہیں لاکھوں دل والے، کر دے او گوری انکھیوں سے اجالے
انکھیوں کا اجالا پر دیسی لے گیا، جاتے جاتے میٹھا میٹھا غم دے گیا
کون پردیسی تیرا دل لے گیا، موٹی موٹی اکھیوں میں آنسو دے گیا

اس کو بلا دوں سامنے لا دوں، کیا مجھے دو گی جو تم سے ملا دوں
جو بھی میرے پاس تھا وہ سب لے گیا جاتے جاتے میٹھا میٹھا غم دے گیا
کون پردیسی تیرا دل لے گیا، موٹی موٹی اکھیوں میں آنسو دے گیا
ایک پردیسی میرا دل لے گیا، جاتے جاتے میٹھا میٹھا غم دے گیا

قمر جلال آبادی​
(اوم پرکاش بھنڈاری)

No comments:

Post a Comment