سِحر ہو یا اعجاز ہو کچھ ہو، خط اس نے ایسا لکھا ہے
جو مضمون ہے میرے دل میں، خط میں وہی گویا لکھا ہے
پیام بین السطور میں لکھنے والے نے کیا لکھا ہے
باز آئیں اس خبط سے میرے حکیم نے یہ نسخہ لکھا ہے
کس کا یہ دیوان ہے یارو ایک ہی طرزِ ادا ہے جس کی
کتبۂ ہستی کیا لکھا ہے توڑ دیا ہے قلم کاتب نے
یہ مت دیکھو کیا لکھا ہے، یہ دیکھو کیسا لکھا ہے
نظاروں کے ترسنے والو رنگ و نور و نظر کے لغت میں
جسے دکھائی دے جائے کچھ اس کو نابینا لکھا ہے
میں جو صفحۂ پیشِ نظر ہوں متن اپنا تو سمجھ نہیں پاتا
اور تجسس یہ کہ ورق کی دوسری جانب کیا لکھا ہے
کس نے بجھائی ہے یہ پہیلی کس نے بھیجا ہے یہ لفافہ
جس میں کوئی تحریر نہیں بس میرا نام پتا لکھا ہے
جو جی میں آئے کرتا ہوں عقل کی تو سنتا ہی نہیں میں
اپنے کیۓ کا پھل پاؤں اور کہوں مقدر کا لکھا ہے
محب غزل کتنی دلکش ہے دل سے پوچھو اس سے نہ پوچھو
وہ جو بڑا جراحِ سخن ہے اور بہت ہی پڑھا لکھا ہے
محب عارفی
No comments:
Post a Comment