یا رب تِرے کرم سے یہ سودا کریں گے ہم
دنیا میں پی کے خُلد میں توبہ کریں گے ہم
یوں رسمِ حسن و عشق کو رسوا کریں گے ہم
تم منتظر رہو گے،۔ نہ آیا کریں گے ہم
آئینے میں خود اپنا تماشا کریں گے ہم
جب تک نہ نظر آؤ گے ایسا کریں گے ہم
ہر روز اک خدا کو تراشا کریں گے ہم
تجھ کو بٹھا کے دور سے دیکھا کریں گے ہم
یوں بھی تِرے غرور سے کھیلا کریں گے ہم
جا، تجھ سے بے نیاز ہوۓ، بھُولے تیرا ذکر
تُو چاہے گا تو تیری تمنا کریں گے ہم
قمر جلال آبادی
No comments:
Post a Comment