Monday, 18 April 2022

کر لوں گا جمع دولت و زر اس کے بعد کیا

 ‎کر لوں گا جمع دولت و زر، اس کے بعد کیا

‎لے لوں گا شاندار سا گھر، اس کے بعد کیا

‎مے کی طلب جو ہو گی تو بن جاؤں گا میں رند

‎کر لوں گا مے کدوں کا سفر، اس کے بعد کیا

‎ہو گا جو شوق حسن سے راز و نیاز کا

‎کر لوں گا گیسوؤں میں سحر، اس کے بعد کیا

‎شعر و سخن کی خوب سجاؤں گا محفلیں

‎دنیا میں ہو گا نام مگر، اس کے بعد کیا

‎موج آئے گی تو سارے جہاں کی کروں گا سیر

‎واپس وہی پرانا نگر، اس کے بعد کیا

‎اک روز موت زیست کا در کھٹکھٹائے گی

‎بجھ جائے گا چراغِ قمر، اس کے بعد کیا

‎اٹھی تھی خاک خاک سے مل جائے گی وہیں

‎پھر اس کے بعد کس کو خبر، اس کے بعد کیا

 

قمر جلال آبادی​

No comments:

Post a Comment