کچھ نہ کچھ عشق کی تاثیر کا اقرار تو ہے
اُس کو الزامِ تغافل پہ کچھ انکار تو ہے
دیکھ لیتے ہیں سبھی کچھ تِرے مشتاقِ جمال
انہیں دیدار نہ ہو حسرتِ دیدار تو ہے
معرکے سر ہوں اِسی برقِ نظر سے اے حسن
یہ چمکتی ہوئی چلتی ہوئی تلوار تو ہے
عشق کا شکوۂ بے جا بھی نہ بے کار گیا
نہ سہی جور، مگر جَور کا اقرار تو ہے
تجھ سے ہمت تو پڑی عشق کو کچھ کہنے کی
خیر شکوہ نہ سہی شکر کا اظہار تو ہے
اِس میں بھی رابطۂ خاص کی ملتی ہے جھلک
خیر اقرارِ محبت نہ ہو انکار تو ہے
کیوں جھپک جاتی ہے رہ رہ کے تِری برق نگاہ
یہ جھجک کس لیے اِک کشتۂ دیدار تو ہے
کئی عنوان ہیں ممنونِ کرم کرنے کے
عشق میں کچھ نہ سہی زندگی بیکار تو ہے
چونک اٹھتے ہیں فراق آتے ہی اس شوخ کا نام
کچھ سراسیمگیِ عشق کا اقرار تو ہے
فراق گورکھپوری
No comments:
Post a Comment