تو اپنے عجز کا کچھ تو خیال کر، رکھ دے
فقیر! کاسے سے دنیا نکال کر رکھ دے
عجیب موجِ حوادث ہے، لہر گریے کی
جو آئے سامنے اس کو اچھال کر رکھ دے
یہ کاروبار بھی گھاٹے کی سمت جا رہا ہے
نہ فصلِ عمر کا اتنا ملال کر، رکھ دے
میں ڈوبتے ہوئے ہر گز نہیں پکاروں گی
مدد تجھے بھی نہ مشکل میں ڈال کر رکھ دے
تِرے ہنر پہ بھی سو سو سوال اٹھیں گے
کہا تو تھا کسی کوزے میں ڈھال کر رکھ دے
تو مسکرا کے مجھے دیکھ ، میں دعا دوں گی
یہ صدقہ تیرے مسائل کو ٹال کر رکھ دے
ہم ایسے ترک شدہ نوٹ، یادگار ہیں بس
کسی دراز میں بے حد سنبھال کر رکھ دے
کومل جوئیہ
No comments:
Post a Comment