Sunday, 8 November 2015

جمال رخ پہ ٹھہرتی نہیں نظر پھر بھی

جمالِ رخ پہ ٹھہرتی نہیں نظر پھر بھی
اتاری جاتی ہے ان کی نظر مگر پھر بھی
کوئی ٹھکانہ ہے شاید بدگمانی کا
قفس میں قید ہوں کاٹے ہیں میرے پر پھر بھی
ملال کر دلِ مضطر! نہ ان کے جانے کا
خُدا نے چاہا تو آئیں گے وہ اِدھر پھر بھی
‘وہ کہہ رہے ہیں ’کل آئیں گے ہم بتا تو دیا
لگا رکھی ہے یہ تم نے ’اگر مگر‘ پھر بھی
ہزار عیش قفس میں سہی مگر وہ بات کہاں
کہ اپنا گھر ہُوا کرتا ہے اپنا گھر پھر بھی
قمرؔ یہ مانا کہ تم احتیاط برتو گے
کسی کے رخ سے جو ٹکرا گئی نظر پھر بھی

قمر جلال آبادی​
(اوم پرکاش بھنڈاری)

No comments:

Post a Comment