چھوڑ جانے سے ترے فرق جو آیا نہیں ہے
اس لیے دوست! ترا ہجر منایا نہیں ہے
وہ خسارہ ہے کہ مقروض ہوئی آنکھوں نے
ایک مدت سے کوئی خواب کمایا نہیں ہے
دھوپ کا بوجھ اٹھانے میں جھلستے بھی رہے
اپنے سائے کا بھی سرمایا گرایا نہیں ہے
میں ہوں متروک صحیفے کی علامت سو مجھے
آنے والے کسی مذہب نے اٹھایا نہیں ہے
کیسی تصویر ہے، ہمشکل سی لگتی ہے مجھے
منظر انجان نہیں رنگ پرایا نہیں ہے
آگ سے پانی ہوا مٹی سے الجھی، تو کھلا
جو میں بنتا تھا مجھے اس نے بنایا نہیں ہے
کون روشن ہوا ایسے کہ افق کانپ اٹھا
گل ابھی گھر کا دِیا میں نے جلایا نہیں ہے
گل جہان
No comments:
Post a Comment