زندگی تیری برسی پہ آئے ہوئے سارے لوگوں کا فرقہ محبت نہیں
چند مغموم، باقی تماشائی ہیں، تجھ سے ہر اک کا رشتہ محبت نہیں
میں نے جس کی ہری آنکھ کا ذکر ہر نظم میں عین واجب سمجھ کر کیا
اس نے ناول لکھا، اور ناول کے پہلے ہی صفحے پہ لکھا؛ محبت نہیں
اک اضافت کے کُلیے کے باعث فزکس آج سائنس کی ماں بن گئی ہے تو کیا
جاؤ، سائنس سے پوچھو کہ کیا نیوکلئس کی توجہ کا قبلہ محبت نہیں؟
اپنے سیّارچے کی تباہی سے قبل ایک اسٹیٹمنٹ ہے، زرا غور ہو
مرکزیت کی گردش کو جو توڑ دے ایسا کوئی بھی رستہ، محبت نہیں
تم نے دولت سے ماپے ہیں قد اور میری غریبی کا اس سے علاقہ کہاں
مجھ کو اس دور میں کیوں اُتارا گیا، جس زمانے کا سِکہ محبت نہیں
مان پھر میں نے مر کر بھی اپنی اداکاریوں سے تجھے مات دے دی ہے نا
خودکشی کی وجوہات پر کام سے تُو نتیجے پہ پہنچا؛ محبت نہیں
صرف انسانیت کا پرستار ہوں، آدمی کی علامت کو سمجھا ہوں بس
کوئی مذہب تبھی میں نہیں مانتا، مذہبی کوئی خطبہ محبت نہیں
ہے شباہت مفادات کا راستہ، اس میں ذاتی تشفّی کا سامان ہے
سارے چہروں میں مکّاریاں ہیں چھپی، آج کا کوئی چہرہ محبت نہیں
گل جہان
No comments:
Post a Comment