نظارہ تھا اک اور ہی منظر سے نکل کر
دیکھا جو سمندر کو سمندر سے نکل کر
پھرتا تھا کہیں خواب خلاؤں میں اکیلا
میں گردشِ افلاک کے محور سے نکل کر
اب یاد نہیں رہتی مجھے وقت کی گنتی
نسیاں میں پڑا رہتا ہوں ازبر سے نکل کر
کھو جاؤں گا اک روز کسی خوابِ ابد میں
لیٹوں گا کفِ خاک پہ بستر سے نکل کر
پھر رقص میں ہے حرفِ برہنہ سرِ محفل
پابندئ آداب کی چادر سے نکل کر
گونجا ہے ندیم اب کے بڑے زور سے سر میں
اک شورِ تمنا دلِ خود سر سے نکل کر
رشید ندیم
No comments:
Post a Comment