Friday, 9 July 2021

نظارہ تھا اک اور ہی منظر سے نکل کر

 نظارہ تھا اک اور ہی منظر سے نکل کر

دیکھا جو سمندر کو سمندر سے نکل کر

پھرتا تھا کہیں خواب خلاؤں میں اکیلا

میں گردشِ افلاک کے محور سے نکل کر

اب یاد نہیں رہتی مجھے وقت کی گنتی

نسیاں میں پڑا رہتا ہوں ازبر سے نکل کر

کھو جاؤں گا اک روز کسی خوابِ ابد میں

لیٹوں گا کفِ خاک پہ بستر سے نکل کر

پھر رقص میں ہے حرفِ برہنہ سرِ محفل

پابندئ آداب کی چادر سے نکل کر

گونجا ہے ندیم اب کے بڑے زور سے سر میں

اک شورِ تمنا دلِ خود سر سے نکل کر


رشید ندیم

No comments:

Post a Comment