درونِ ذات کوئی غم نکھر جائے تو لکھوں گی
تمہارا ہجر بھی مجھ میں سنور جائے تو لکھوں گی
میں جو لکھوں وہ حرفِ معتبر ہو، یہ تمنا ہے
مِرے اجداد کا فن مجھ میں در آئے تو لکھوں گی
بہت لکھتی رہی ہوں ہجرتوں کو، ہجر کو اب تک
یہ سودا اب مِرے سر سے اتر جائے تو لکھوں گی
بہاروں ہی کے موسم میں بہاریں لکھنی ہوتی ہیں
یہ موسم تو خزاں کا ہے، گزر جائے تو لکھوں گی
نہیں بھولی کوئی پل، کوئی لمحہ، تیری قربت کا
یہ دل دامن ذرا یادوں سے بھر جائے تو لکھوں گی
مجھے لکھنا بہت ہے، وقت کی مہلت مگر کم ہے
مِری عمرِ رواں اک پل ٹھہر جائے تو لکھوں گی
حجاب عباسی
No comments:
Post a Comment