انداز ستم گر کا نرالا سا لگے ہے
قاتل بھی ہمیں آج دل آرأ سا لگے ہے
ہر حُسن مجھے تیرا سراپا سا لگے ہے
دُکھ درد کسی کا بھی ہو اپنا سا لگے ہے
یاد آتے ہیں اُس شہرِ تمنا کے اُجالے
اِس دیس میں دن کو بھی اندھیرا سا لگے ہے
کل تک جو تصوّر میں رہا بن کے حقیقت
اب سامنے آیا ہے تو سپنا سا لگے ہے
رہ رہ کے جو چُبھتے ہیں تِری یاد کے نشتر
اس میں بھی تِرا کوئی اشارا سا لگے ہے
اب کیا تِری دِیوار کے سائے کا بیاں ہو
کُوچے کی تِرے دُھوپ بھی سایا سا لگے ہے
اس بڑھتی ہوئی غم کی سیہ رات میں مجھ کو
یاد اس کی حسؔن ایک ستارا سا لگے ہے
حسن چشتی
No comments:
Post a Comment