ستمگر یار کی ایسی کی تیسی
دل لاچار کی ایسی کی تیسی
بڑھائے اور بھی احساس غم جو
ہو اس غمخوار کی ایسی کی تیسی
ہنسی جو حال دل سن کر اڑائے
ہو اس دلدار کی ایسی کی تیسی
نہ جس میں کچھ خلوص و دلربائی
ہو اس اقرار کی ایسی کی تیسی
صنم کی دید بہلائے نہ جس کو
ہو اس بیمار کی ایسی کی تیسی
نہ چشم یار جس سے ڈبڈبائے
ہو اس اظہار کی ایسی کی تیسی
رہا جو بے رخی کا ترجماں جو
ہو اس معیار کی ایسی کی تیسی
کریں گمراہ جو نام خدا پر
ہو ان اقدار کی ایسی کی تیسی
نظر آئے نہ جس کو جز شرارت
دل بیدار کی ایسی کی تیسی
اگر بچے ہوں فاقوں سے بلکتے
ہو اس تہوار کی ایسی کی تیسی
نظر آئے جو کانٹوں کا بچھونا
ہو اس گلزار کی ایسی کی تیسی
جو مشکل دور میں آنکھیں چرائے
ارے اس یار کی ایسی کی تیسی
فن تعمیر سے نا آشنا جو
ہو اس معمار کی ایسی کی تیسی
نہ سر دشمن کا جو کاٹے رفیقو
ہو اس تلوار کی ایسی کی تیسی
نہ جانے فرق آب و مے جو ہمدم
ہو اس میخوار کی ایسی کی تیسی
رلائے ہر گھڑی تجھ کو جو انور
ترے اس پیار کی ایسی کی تیسی
انور شیخ
No comments:
Post a Comment