Thursday, 8 July 2021

ستمگر یار کی ایسی کی تیسی

ستمگر یار کی ایسی کی تیسی 

دل لاچار کی ایسی کی تیسی 

بڑھائے اور بھی احساس غم جو 

ہو اس غمخوار کی ایسی کی تیسی 

ہنسی جو حال دل سن کر اڑائے

ہو اس دلدار کی ایسی کی تیسی

نہ جس میں کچھ خلوص و دلربائی

ہو اس اقرار کی ایسی کی تیسی

صنم کی دید بہلائے نہ جس کو

ہو اس بیمار کی ایسی کی تیسی

نہ چشم یار جس سے ڈبڈبائے

ہو اس اظہار کی ایسی کی تیسی

رہا جو بے رخی کا ترجماں جو

ہو اس معیار کی ایسی کی تیسی

کریں گمراہ جو نام خدا پر

ہو ان اقدار کی ایسی کی تیسی

نظر آئے نہ جس کو جز شرارت

دل بیدار کی ایسی کی تیسی

اگر بچے ہوں فاقوں سے بلکتے

ہو اس تہوار کی ایسی کی تیسی

نظر آئے جو کانٹوں کا بچھونا

ہو اس گلزار کی ایسی کی تیسی

جو مشکل دور میں آنکھیں چرائے

ارے اس یار کی ایسی کی تیسی

فن تعمیر سے نا آشنا جو

ہو اس معمار کی ایسی کی تیسی

نہ سر دشمن کا جو کاٹے رفیقو

ہو اس تلوار کی ایسی کی تیسی

نہ جانے فرق آب و مے جو ہمدم

ہو اس میخوار کی ایسی کی تیسی

رلائے ہر گھڑی تجھ کو جو انور

ترے اس پیار کی ایسی کی تیسی


انور شیخ

No comments:

Post a Comment