Friday, 9 April 2021

ہزاروں طرح اپنا درد ہم اس کو سناتے ہیں

 ہزاروں طرح اپنا درد ہم اس کو سناتے ہیں

مگر تصویر کو ہر حال میں تصویر پاتے ہیں

بُجھا دے اے ہوائے تند مدفن کے چراغوں کو

سیہ بختی میں یہ اک بد نما دھبہ لگاتے ہیں

مرتب کر گیا اک عشق کا قانون دنیا میں

وہ دیوانے ہیں جو مجنوں کو دیوانہ بتاتے ہیں

اسی محفل سے میں روتا ہوا آیا ہوں اے آسی

اشارے میں جہاں لاکھوں مقدر بدلے جاتے ہیں


آسی الدنی

No comments:

Post a Comment