Monday, 4 October 2021

موت محو رقص ہے شمع اور پروانے میں

موت محوِ رقص ہے شمع اور پروانے میں

کچھ تو راز ہے ان کے یوں جل جانے میں

عشق کے پیمانے میں وہ جام پلائی اس نے

پیاس نہیں بُجھتی اب مئے خانے میں

ہوتی ہے پُرستش دونوں میں صنم کی

فرق ہی کیا ہے دل اور بُت خانے میں

اُلفت بھری نگاہ سے دیکھا نہیں اُس نے

ہم بھی اُسے دیتے یہ دل نذرانے میں

اپنوں ہی سے انجم پیار مِلا ہم کو

جسے ڈھونڈتے رہے ہر بیگانے میں


انجم شہزاد

No comments:

Post a Comment