Sunday, 17 October 2021

زخم کے رنگ ہیں کیا میری ردا جانتی ہے

 زخم کے رنگ ہیں کیا میری ردا جانتی ہے

کس نے کی کس سے وفا خود یہ وفا جانتی ہے

اب قفس اور گلستاں میں کوئی فرق نہیں

ہم کو خوشبو کی طلب ہے یہ صبا جانتی ہے

خود پرستی کے محلات میں رہنے والو

زلزلہ آنے کو ہے لرزشِ پا جانتی ہے

میں نہیں جانتا دریوزہ گری کو لیکن

میرے لب پر ہے دعا کیا یہ دعا جانتی ہے

کشتیٔ عمر مِری ڈول رہی ہے عابد

ساحل زیست کی آلودہ ہوا جانتی ہے


عابد ودود

No comments:

Post a Comment