زخم کے رنگ ہیں کیا میری ردا جانتی ہے
کس نے کی کس سے وفا خود یہ وفا جانتی ہے
اب قفس اور گلستاں میں کوئی فرق نہیں
ہم کو خوشبو کی طلب ہے یہ صبا جانتی ہے
خود پرستی کے محلات میں رہنے والو
زلزلہ آنے کو ہے لرزشِ پا جانتی ہے
میں نہیں جانتا دریوزہ گری کو لیکن
میرے لب پر ہے دعا کیا یہ دعا جانتی ہے
کشتیٔ عمر مِری ڈول رہی ہے عابد
ساحل زیست کی آلودہ ہوا جانتی ہے
عابد ودود
No comments:
Post a Comment