Tuesday, 19 October 2021

جب بھی تنہائی کبھی ہوتی ہے حاصل مجھ کو

 جب بھی تنہائی کبھی ہوتی ہے حاصل مجھ کو

وقت رکھ دیتا ہے میرے ہی مقابل مجھ کو

آخری عمر کی افتاد گئی طبع کی خیر

راس آتا ہے الم زار نہ محفل مجھ کو

ایک بار اور میں جی پاؤں تو شاید حل ہوں

زندگانی نے دئیے ایسے مسائل مجھ کو

عشق اتنا بھی ہے کافی کہ تجھے چاہتا ہوں

اتنا حاصل ہے تو کیا کچھ نہیں حاصل مجھ کو

جب بہار آئی توانائی بھی واپس آئی

قید میں رکھ نہ سکے بند و سلاسل مجھ کو

اتنی اونچائی سے تو میری زبوں حالی دیکھ

جتنی دوری سے نظر آتا ہے ساحل مجھ کو

مجھ کو معذور بناتی ہے مِری کم یابی

نظر آتا ہے خریدار نہ سائل مجھ کو

میں ترے لطف سے نادم ہوں مگر عرض ہے یہ

اب سمندر سے بنانا نہیں ساحل مجھ کو

میں نے کشکول جو ہاتھوں میں لیا تو عابد

ساری دنیا نظر آنے لگی سائل مجھ کو


عابد ودود

No comments:

Post a Comment