تمہاری بانہوں کا جو سرہانہ لگا ہوا ہے
تو سبز خوابوں کا آنا جانا لگا ہوا ہے
میں آنکھوں پر تازہ خواب بوٹے لگا رہا ہوں
پر ایک آنسو بہت پرانا لگا ہوا ہے
میں اک تو ہجرت اٹھائے پھرتا ہوں اور اس پر
گلی میں مہدی حسن کا گانا لگا ہوا ہے
تمہاری آنکھیں نہیں ہیں نقشے ہیں وادیوں کے
یہ صرف عینک نہیں خزانہ لگا ہوا ہے
ہمارے دل سے بھی ایک نیکی ہوئی تھی سرزد
ہمارے پیچھے بھی اک گھرانہ لگا ہوا ہے
وہ پنچھی بھی ہولے ہولے آگے کو آ رہا ہے
ہماری جانب سے بھی نشانہ لگا ہوا ہے
نجانے میں کون سے زمانے کا آدمی ہوں
نجانے یہ کون سا زمانہ لگا ہوا ہے
احمر فاروقی
No comments:
Post a Comment