Tuesday, 8 December 2020

تمہاری بانہوں کا جو سرہانہ لگا ہوا ہے

 تمہاری بانہوں کا جو سرہانہ لگا ہوا ہے

تو سبز خوابوں کا آنا جانا لگا ہوا ہے

میں آنکھوں پر تازہ خواب بوٹے لگا رہا ہوں

پر ایک آنسو بہت پرانا لگا ہوا ہے

میں اک تو ہجرت اٹھائے پھرتا ہوں اور اس پر

گلی میں مہدی حسن کا گانا لگا ہوا ہے

تمہاری آنکھیں نہیں ہیں نقشے ہیں وادیوں کے

یہ صرف عینک نہیں خزانہ لگا ہوا ہے

ہمارے دل سے بھی ایک نیکی ہوئی تھی سرزد

ہمارے پیچھے بھی اک گھرانہ لگا ہوا ہے

وہ پنچھی بھی ہولے ہولے آگے کو آ رہا ہے

ہماری جانب سے بھی نشانہ لگا ہوا ہے

نجانے میں کون سے زمانے کا آدمی ہوں

نجانے یہ کون سا زمانہ لگا ہوا ہے


احمر فاروقی

No comments:

Post a Comment