سینے میں دل جو درد کا مارا نہیں ملا
پھر آئینے میں عکس ہمارا نہیں ملا
میلے میں آ گئے تھے کہ شاید کوئی ملے
اس بھیڑ میں بھی کوئی ہمارا نہیں ملا
ہر چند اک ہجوم تھا آنکھوں کا ہر طرف
لیکن کسی نظر کا سہارا نہیں ملا
کشتی تو ڈوبنے کے لیے بے قرار تھی
کشتی کو ڈوبنے کا اشارہ نہیں ملا
احمد فاخر
No comments:
Post a Comment