نظر جو آئی تمہیں پیرہن سے لپٹی ہوئی
ہے اصل میں یہ اداسی بدن سے لپٹی ہوئی
میں مر گیا تھا اسے بیوگی کا دکھ دے کر
سو رو رہی تھی محبت کفن سے لپٹی ہوئی
ہے مجھ میں مرکزی کردار اک مسافر کا
ہے میری ساری کہانی تھکن سے لپٹی ہوئی
درونِ ذات جو ٹھنڈک اتار دیتی ہے
اک ایسی آگ ہے اپنے بدن سے لپٹی ہوئی
وطن فروش کہا جس کو یہ وہی تو نہیں؟
یہ کس کی لاش ہے خاکِ وطن سے لپٹی ہوئی
جو رات ہم نے جلایا تھا صبح کی خاطر
اسی لہو کی دمک ہے کرن سی لپٹی ہوئی
ترے ہی اسم کا اک ذائقہ زباں پر ہے
ترے ہی نام کی لذت دہن سے لپٹی ہوئی
کچھ ایسے وحشتیں اکبر جکڑ چکی ہیں مجھے
ہو جیسے کوئی امر بیل تن سے لپٹی ہوئی
صدیق اکبر
No comments:
Post a Comment