Sunday, 6 December 2020

نظر جو آئی تمہیں پیرہن سے لپٹی ہوئی

 نظر جو آئی تمہیں پیرہن سے لپٹی ہوئی

ہے اصل میں یہ اداسی بدن سے لپٹی ہوئی

میں مر گیا تھا اسے بیوگی کا دکھ دے کر

سو رو رہی تھی محبت کفن سے لپٹی ہوئی

ہے مجھ میں مرکزی کردار اک مسافر کا

ہے میری ساری کہانی تھکن سے لپٹی ہوئی

درونِ ذات جو ٹھنڈک اتار دیتی ہے

اک ایسی آگ ہے اپنے بدن سے لپٹی ہوئی

وطن فروش کہا جس کو یہ وہی تو نہیں؟

یہ کس کی لاش ہے خاکِ وطن سے لپٹی ہوئی

جو رات ہم نے جلایا تھا صبح کی خاطر

اسی لہو کی دمک ہے کرن سی لپٹی ہوئی

ترے ہی اسم کا اک ذائقہ زباں پر ہے

ترے ہی نام کی لذت دہن سے لپٹی ہوئی

کچھ ایسے وحشتیں اکبر جکڑ چکی ہیں مجھے

ہو جیسے کوئی امر بیل تن سے لپٹی ہوئی


صدیق اکبر

No comments:

Post a Comment