جو ملا اس سے گزارا نہ ہوا
جو ہمارا تھا، ہمارا نہ ہوا
ہم کسی اور سے منسوب ہوئے
کیا یہ نقصان تمہارا نہ ہوا؟
خرچ ہوتا رہا محبت میں
پھر بھی اس دل کو خسارا نہ ہوا
دونوں اک دوسرے پہ مرتے رہے
کوئی اللہ کو پیارا نہ ہوا
بے تکلف بھی وہ ہو سکتے تھے
ہم سے ہی کوئی اشارا نہ ہوا
طاہر فراز
مطلع کے مصرع ثانی میں لفظ "وہ" زائد ہے،
ReplyDeleteنشاندہی کے لیے شکریہ، تصحیح کر دی گئی ہے۔
ReplyDelete