Sunday, 6 December 2020

جو ملا اس سے گزارا نہ ہوا

 جو ملا اس سے گزارا نہ ہوا

جو ہمارا تھا، ہمارا نہ ہوا

ہم کسی اور سے منسوب ہوئے

کیا یہ نقصان تمہارا نہ ہوا؟

خرچ ہوتا رہا محبت میں

پھر بھی اس دل کو خسارا نہ ہوا

دونوں اک دوسرے پہ مرتے رہے

کوئی اللہ کو پیارا نہ ہوا

بے تکلف بھی وہ ہو سکتے تھے

ہم سے ہی کوئی اشارا نہ ہوا


طاہر فراز

2 comments:

  1. مطلع کے مصرع ثانی میں لفظ "وہ" زائد ہے،

    ReplyDelete
  2. نشاندہی کے لیے شکریہ، تصحیح کر دی گئی ہے۔

    ReplyDelete