ان دنوں ہم یہ سمجھتے تھے ہمارے ہوئے دن
وہ بھی کیا دن تھے ترے ساتھ گزارے ہوئے دن
سرد آغوش میں راتوں کی، پناہ ڈھونڈتے ہیں
شام ہوتے ہی کڑی دھوپ کے مارے ہوئے دن
رنج یوں ہے کہ پلٹ کر بھی نہیں دیکھتے اب
وہ صدا دی ہوئی راتیں وہ پکارے ہوئے دن
نیند ٹوٹی تو بہا لے گئی خوابوں کا سراغ
ہاتھ چھوٹے تو لگا جیسے غبارے ہوئے دن
تیرگی چھانے لگی جل اٹھے یادوں کے چراغ
عمر کی شب ہوئی، پلکوں پہ ستارے ہوئے دن
تم نے صبحوں کو چنا، ہم نے اٹھا لیں شامیں
سو ہماری ہوئیں راتیں، سو تمہارے ہوئے دن
ایک تصویر کو اوجھل نہیں ہونے دیتے
اس کے ہلتے ہوئے ہاتھوں کے اشارے ہوئے دن
کون کر سکتا ہے زنجیر انہیں، کوئی نہیں
ڈھلتے سورج ہوئے دن دریا کے دھارے ہوئے دن
رانا غلام محی الدین
No comments:
Post a Comment