Monday, 7 December 2020

سیاہ رات پشیماں ہے ہمرکابی سے

 سیاہ رات پشیماں ہے ہم رکابی سے

وہ روشنی ہے ترے غم کی ماہتابی سے

صبا کے ہاتھ ہے اب عزت نگاہ مری

چمن مہکنے لگا گل کی بے حجابی سے

فرار ان سے ہے مشکل وہ دسترس میں نہیں

یہ زرد زرد سے موسم وہ دن گلابی سے

لہو لہو نظر آتی ہے شاخ گل مجھ کو

کھلے وہ پھول تری تازہ انقلابی سے

عجب نہیں ہے کہ پا جائیں قافلے منزل

ہمارے نقشِ قدم کی ستارہ تابی سے

کتاب کوئی جو کھولیں تو کیا پڑھیں فاخر

کھلیں نگاہ میں چہرے اگر کتابی سے


احمد فاخر

No comments:

Post a Comment