Monday, 7 December 2020

آپ اگر سامنے نہیں رہیں گے

 آپ اگر سامنے نہیں رہیں گے

زیست کے ذائقے نہیں رہیں گے

ایک دو دن کے ہیں یہ ٹوٹے گلاب

پھر کسی کام کے نہیں رہیں گے

یا ترا حسن ہار جائے گا

یا مرے کیمرے نہیں رہیں گے

سرخ بتی جلی نہیں رہے گی

ہم بھی ایسے کھڑے نہیں رہیں گے

تم کبوتر کی بات کرتے ہو

ایک دن ڈاکیے نہیں رہیں گے

پوری ہو جائے گی یہ فلم آخر

اور پھر وہ مرے نہیں رہیں گے

ہم بھی ہو جائیں گے خموش اک دن

فون نمبر کھلے نہیں رہیں گے


احمر فاروقی

No comments:

Post a Comment