آپ اگر سامنے نہیں رہیں گے
زیست کے ذائقے نہیں رہیں گے
ایک دو دن کے ہیں یہ ٹوٹے گلاب
پھر کسی کام کے نہیں رہیں گے
یا ترا حسن ہار جائے گا
یا مرے کیمرے نہیں رہیں گے
سرخ بتی جلی نہیں رہے گی
ہم بھی ایسے کھڑے نہیں رہیں گے
تم کبوتر کی بات کرتے ہو
ایک دن ڈاکیے نہیں رہیں گے
پوری ہو جائے گی یہ فلم آخر
اور پھر وہ مرے نہیں رہیں گے
ہم بھی ہو جائیں گے خموش اک دن
فون نمبر کھلے نہیں رہیں گے
احمر فاروقی
No comments:
Post a Comment