ان کو خیال بھی تو نہیں تھا حجاب کا
خانہ خراب ہو میرے سرکش سے خواب کا
جب خود کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے مجھ سے وہ
بے شک نہیں جواب تیرے انتخاب کا
گر مجھ سے تُو نفی ہو تو بچتا نہیں ہوں میں
ہاں مکتبِ وفا میں ہوں پکا حساب کا
حیراں میرے حواس تھے ہونٹوں کو دیکھ کر
اور اس کو انتظار تھا میرے جواب کا
احساس پوچھتا ہے محبت کا مجھ سے یوں
جیسے کے آب چھیڑ دے موضوع سراب کا
جس کے حسِین نام کو غزلوں پہ دم کیا
وہ شخص منتظر ہے میرے انتساب کا
مِنت کریں گے تیری نگاہوں کے جام کی
وعدہ وفا کرے گا خدا جب شراب کا
پڑھ کر سنائیں گر تو غزل بھیج دے عطش
لفظوں میں جان ڈال دے لہجہ جناب کا
عطش نقوی
No comments:
Post a Comment