Monday, 7 December 2020

ان کو خیال بھی تو نہیں تھا حجاب کا

 ان کو خیال بھی تو نہیں تھا حجاب کا

خانہ خراب ہو میرے سرکش سے خواب کا

جب خود کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے مجھ سے وہ

بے شک نہیں جواب تیرے انتخاب کا

گر مجھ سے تُو نفی ہو تو بچتا نہیں ہوں میں

ہاں مکتبِ وفا میں ہوں پکا حساب کا

حیراں میرے حواس تھے ہونٹوں کو دیکھ کر

اور اس کو انتظار تھا میرے جواب کا

احساس پوچھتا ہے محبت کا مجھ سے یوں

جیسے کے آب چھیڑ دے موضوع سراب کا

جس کے حسِین نام کو غزلوں پہ دم کیا

وہ شخص منتظر ہے میرے انتساب کا

مِنت کریں گے تیری نگاہوں کے جام کی

وعدہ وفا کرے گا خدا جب شراب کا

پڑھ کر سنائیں گر تو غزل بھیج دے عطش

لفظوں میں جان ڈال دے لہجہ جناب کا


عطش نقوی

No comments:

Post a Comment