Saturday, 5 December 2020

آنکھوں میں اس کی ڈوب کے ابھرا نہیں ہوں میں

 آنکھوں میں اس کی ڈوب کے ابھرا نہیں ہوں میں

جس نے بھلا دیا اسے بھولا نہیں ہوں میں

اب لمحہ لمحہ اپنے بکھرنے کا خوف ہے

غنچے کی طرح بند ہوں کھلتا نہیں ہوں میں

پیچھے پلٹ  کے دیکھا تو پرچھائیں بھی نہ تھی

سوچا تھا راہِ شوق میں تنہا نہیں ہوں میں

یہ سوچتا ہوں کیسے رہوں گا تمہارے ساتھ

اکثر تو اپنے ساتھ بھی رہتا نہیں ہوں میں

فاخرؔ اسی گلی میں ملے گا دل خراب

لیکن اب اس گلی سے گزرتا نہیں ہوں میں


احمد فاخر

No comments:

Post a Comment