یہ جو شخص لگتا ہے پھول سا، اسے کچھ نہ ہو
مجھے کچھ بھی ہو مگر اے خدا، اسے کچھ نہ ہو
میں اداس بیٹھا تھا اک فقیر کے سامنے
تو نجانے اس نے کسے کہا، اسے کچھ نہ ہو
یہ دیا🪔 جلایا ہے، میں نے یار کے نام پر
تجھے پہلے کہتا ہوں اے ہوا، اسے کچھ نہ ہو
یہ درخت🌳 جلد ہرا بھرا نظر آئے گا
میں نے اس کی ٹہنی پہ لکھ دیا، اسے کچھ نہ ہو
مجھے دیوتاؤں نے مار دینا تھا، اور پھر
کسی دیوداسی نے کہہ دیا، اسے کچھ نہ ہو
بھلے ساری چیزوں کو توڑ دے کوئی غم نہیں
یہ جو گھر ہے یہ ہے کرائے کا، اسے کچھ نہ ہو
احمر فاروقی
No comments:
Post a Comment