یہ روح اپنا بدن کیسے بھول سکتی ہے
کوئی بھی قوم وطن کیسے بھول سکتی ہے
ضرور کوئی معمہ ہے ذہن و دل کے بیچ
وہ میرے کف کے بٹن کیسے بھول سکتی ہے
وہ جام پور کا اگر پارک بھول بھی جائے
مزارِ پاک پتن کیسے بھول سکتی ہے
جب اسکے خواب تواتر سے دیکھتی ہے تو پھر
یہ آنکھ رونے کا فن کیسے بھول سکتی ہے
وہ دو ہزار دنوں پر محیط شب تھی حضور
وہ پہلے قُرب کا سَن کیسے بھول سکتی ہے
احمر فاروقی
No comments:
Post a Comment