Saturday, 5 December 2020

یہ روح اپنا بدن کیسے بھول سکتی ہے

 یہ روح اپنا بدن کیسے بھول سکتی ہے

کوئی بھی قوم وطن کیسے بھول سکتی ہے

ضرور کوئی معمہ ہے ذہن و دل کے بیچ

وہ میرے کف کے بٹن کیسے بھول سکتی ہے

وہ جام پور کا اگر پارک بھول بھی جائے

مزارِ پاک پتن کیسے بھول سکتی ہے

جب اسکے خواب تواتر سے دیکھتی ہے تو پھر

یہ آنکھ رونے کا فن کیسے بھول سکتی ہے

وہ دو ہزار دنوں پر محیط شب تھی حضور

وہ پہلے قُرب کا سَن کیسے بھول سکتی ہے


احمر فاروقی

No comments:

Post a Comment