Wednesday, 16 June 2021

مری حیات کے صحرا میں چھاؤں جیسا تھا

 مِری حیات کے صحرا میں چھاؤں جیسا تھا

عجیب شخص تھا ٹھنڈی ہواؤں جیسا تھا

کھِلا ہی رہتا تھا ہر دم گُلاب کی صورت

مزاج اس کا چمن کی فضاؤں جیسا تھا

اسی زمانے میں رہتا ہوں ہر زمانے میں

وہ جب بدن پہ گُلوں کی قباؤں جیسا تھا

یہ اس کی یاد تپاں کیوں ہے دھوپ سی فاخر

وہ بے وفا تو برستی گھٹاؤں جیسا تھا


احمد فاخر

No comments:

Post a Comment