اس قدر بے نیام خاموشی
زہر ہے صبح و شام خاموشی
سخت گستاخ، من چلی، ضدی
بے دھڑک، بے لگام خاموشی
تیرے داؤ سے بچ گیا جو اسے
بھیج دینا سلام خاموشی
چیخ مت کھوکھلی عمارت میں
دھیرے دھیرے خرام خاموشی
بہری یادیں بھی سن رہی ہیں اسے
اس قدر خوش کلام خاموشی
شازیہ اکبر
No comments:
Post a Comment