Monday, 14 December 2020

سوچا جو تیرا نام طبیعت سنبھل گئی

 سوچا جو تیرا نام طبیعت سنبھل گئی

لیکن ترے خیال میں چائے ابل گئی

اب عشق بھی زمیں پہ بجاتا ہے تالیاں

اک وصل کے مدار میں پہلی شٹل گئی

کہہ دو یہ اپنے خواب سے چھکے پہ زور دے

اب دور تیز آ گیا، سنگل ڈبل گئی

اے دوست تیری آنکھ میں یوں انہماک سے

دیکھا تو کیمرے کی بھی نیت بدل گئی

آنچل گلے میں ڈال کے آئی وہ ڈیم پر

ٹربائنوں کے ہاتھ سے بجلی پھسل گئی


شہریار حیدر

No comments:

Post a Comment