Wednesday, 16 December 2020

تم کو اندازہ نہیں ہے آنکھ کی یلغار کا

 تم کو اندازہ نہیں ہے آنکھ کی یلغار کا 

اس سے بے شک کام لے لو جانِ جاں تلوار کا 

اک سراپے سے ملے ہیں ساری شکلوں کے سراغ 

مستطیلیں، زاویے اور دائرہ پرکار کا 

تیرا آنچل دیکھ کر یہ اب تلک سکتے میں ہے 

دیکھ کیسے منہ کھلا ہے سامنے دیوار کا 

اے نگینے گر تری چمکار کا طالب ہوں میں 

کیا بگڑتا ہے ترا یا پھر تری چمکار کا 


شہریار حیدر

No comments:

Post a Comment