موسمِ گل، پھر کبھی آئے نہ آئے، کیا خبر
پیار کا نغمہ یہ دل گائے نہ گائے، کیا خبر
بیٹھ کر کنجِ چمن میں، دل سے دل کی بات ہو
پھر قیامت چاندنی ڈھائے نہ ڈھائے، کیا خبر
آنکھ کے کاجل کا جادو پھر چلے یا ناں چلے
رنگ ہاتھوں کی حنا لائے نہ لائے، کیا خبر
منتظر آنکھوں میں یوں تو آرزوئیں ہیں سجی
پی کو سجنی کی ادا بھائے نہ بھائے، کیا خبر
اپنا تن من دھن سب اس کے نام گرچہ کر دیا
دل ریاضت کا صلہ پائے نہ پائے، کیا خبر
آج کے دن ہے اجازت، دیجیے تازہ فریب
پھر کوئی دھوکہ یہ دل کھائے نہ کھائے کیا خبر
کر تو لیں نسرین، ہم ترکِ جنوں کا فیصلہ
سر سے یہ سودا مگر جائے نہ جائے کیا خبر
نسرین سید
No comments:
Post a Comment