کسی کے عشق میں کچھ ایسا مبتلا ہُوا میں
کہ اس کو شاہ بناتے ہوئے گدا ہوا میں
میں ٹوٹ پھوٹ گیا ہوں بنا بنایا ہوا
اور اس پہ ظلم تِرے ہاتھ سے فنا ہوا میں
میں تم کو دیکھ رہا تھا، دکھائی دینے لگا
تمہارے شہر میں آ کر ہی آئینہ ہوا میں
کوئی اتار نہیں پا رہا تھا قرض مِرا
بچھڑتے وقت کسی آنکھ سے ادا ہوا میں
پھر اس کے بعد تو پاکیزگی ٹپکنے لگی
کسی کو دیکھ کے اندر سے دودھیا ہوا میں
وقاص عزیز
No comments:
Post a Comment