Friday, 23 July 2021

صحرا کوئی بستی کوئی دریا ہے کہ تم ہو

 صحرا، کوئی بستی، کوئی دریا ہے کہ تم ہو

سب کچھ مِری نظروں کا تماشا ہے کہ تم ہو

لوٹ آئے ہیں صحرا سے سبھی لوٹنے والے

اس بار مِرے شہر میں اچھا ہے کہ تم ہو

تم ہو کہ مِرے لب پہ دعا رہتی ہے کوئی

آنکھوں نے کوئی خواب سا دیکھا ہے کہ تم ہو

جب بھی کوئی دیتا ہے درِ خواب پہ دستک

میں سوچنے لگتا ہوں کہ دنیا ہے کہ تم ہو

یہ عشق کا جلتا ہوا صحرا ہے کہ میں ہوں

یہ حُسن کا بہتا ہوا دریا ہے کہ تم ہو


سرفراز خالد

No comments:

Post a Comment