باتوں میں لفظ لفظ کی، سچائی لے کے آ
دل جس میں ڈوب جائیں وہ گہرائی لے کے آ
اس کے بغیر علم و ہنر سب فضول ہیں
پہچان اپنی حق کی شناسائی لے کے آ
خود غرضیوں کی بھیڑ میں گم ہو گیا ہے جو
وہ پیار، وہ خلوص مِرے بھائی لے کے آ
اے موسمِ بہار! چلا ہے، تو جا، مگر
اب کے مِرے چمن میں بھی رعنائی لے کے آ
نغمات و ساز کا، ہے کہاں کوئی قدرداں
جا، اے صدائے ساز! تماشائی لے کے آ
مجھ کو نہیں پسند، یہ اغراض کا ہجوم
آنا ہے تو، خلوص کی تنہائی لے کے آ
جا، مانتا نہیں تو درِ حسن پر شفیق
پھر ایک بار ذلت و رُسوائی لے کے آ
شفیق رائے پوری
No comments:
Post a Comment