Friday, 23 July 2021

باتوں میں لفظ لفظ کی سچائی لے کے آ

 باتوں میں لفظ لفظ کی، سچائی لے کے آ

دل جس میں ڈوب جائیں وہ گہرائی لے کے آ

اس کے بغیر علم و ہنر سب فضول ہیں

پہچان اپنی حق کی شناسائی لے کے آ

خود غرضیوں کی بھیڑ میں گم ہو گیا ہے جو

وہ پیار، وہ خلوص مِرے بھائی لے کے آ

اے موسمِ بہار! چلا ہے، تو جا، مگر

اب کے مِرے چمن میں بھی رعنائی لے کے آ

نغمات و ساز کا، ہے کہاں کوئی قدرداں

جا، اے صدائے ساز! تماشائی لے کے آ

مجھ کو نہیں پسند، یہ اغراض کا ہجوم

آنا ہے تو، خلوص کی تنہائی لے کے آ

جا، مانتا نہیں تو درِ حسن پر شفیق

پھر ایک بار ذلت و رُسوائی لے کے آ


شفیق رائے پوری

No comments:

Post a Comment