Friday, 23 July 2021

دھیرے دھیرے بڑھ رہا ہے رات کا گہرا طلسم

 طلسم


دھیرے دھیرے بڑھ رہا ہے رات کا گہرا طلسم

روشنی اپنے ہی اندر اب سمٹتی جائے گی

اور بھی حیران کن ہوں گی کچھ اگلی ساعتیں

تیرگی کی سلطنت جوں جوں بکھرتی جائے گی

کچھ تو خاموشی کے پہرے لگ گئے ہیں شام سے

اور کچھ کہتی زباں بھی مصلحت بن جائے گی

آشیانے فاختاؤں کے اُجاڑے گا کوئی

پر ہوا الزام چیلوں پر لگاتی جائے گی

ننھی ننھی کونپلوں کو روند ڈالے گی ہوا

جڑ سے ان کو نوچتی کوسوں رگڑتی جائے گی

اور شاید آستینوں میں پلے آلام کو

روشنی کی ڈوبتی سی ایک کرن بہلائے گی


روما رضوی

No comments:

Post a Comment