یہ کس کمال سے آخر ہوا زوال مجھے
قضا نہ آئی، ہوئی زندگی محال مجھے
وہ منفرد سا تعلق تھا دھوپ چھاؤں کا
ہوئی نصیب نہ فُرقت نہ ہی وصال مجھے
تِری ہی ایک عطا ہے یہ قدرتِ اظہار
وگرنہ ہوتی نہ گفتار کی مجال مجھے
تجھے میں کیسے سمجھتا حقیقتِ واحد
مِرے حبیب نہ ہوتا اگر زوال مجھے
مِرے رموز سے واقف کیا زمانے کو
مقامِ عشق پہ یوں کر دیا بحال مجھے
تِری نظر نے پِلا دی ہے اس قدر ساقی
میں لڑکھڑا سا گیا ہوں زرا سنبھال مجھے
میں اپنے جشنِ توّلد پہ خوش تو ہوں لیکن
مِٹا رہے ہیں گزرتے یہ ماہ و سال مجھے
رہا ہوں ایک عجب سی ہی کشمکش میں حقیر
غرورِ عشق تھا، کرنا بھی تھا سوال مجھے
حقیر جہانی
No comments:
Post a Comment