Friday, 23 July 2021

رات کاٹی ہے جاگ کر بابا

 رات کاٹی ہے جاگ کر بابا

دن گزارا ہے دار پر بابا

ہاتھ آیا نہ روشنی کا سراب

دور تھا چاند کا نگر بابا

اپنے مرکز سے دور ہو کر ہم

ہو گئے اور در بدر بابا

چوٹ کھا کر سنبھل نہ پائے ہم

پھول پھینکا تھا تاک کر بابا

ہم فقیروں میں مل کے بیٹھ کبھی

تخت طاؤس سے اتر بابا

راستوں کے عذاب سے ڈر کر

یوں نہ ہر ہر قدم پہ مر بابا

تھی دھنک دور آسمانوں میں

اور ہم تھے شکستہ پر بابا


حامد سروش

No comments:

Post a Comment