Friday, 12 November 2021

اپنی صورت کو بدلنا ہی نہیں چاہتا میں

 اپنی صورت کو بدلنا ہی نہیں چاہتا میں

اب کسی سانچے میں ڈھلنا ہی نہیں چاہتا میں

تم اگر مجھ سے محبت نہیں کرتے نہ سہی

ایسی باتوں سے بہلنا ہی نہیں چاہتا میں

یا مِرے پاؤں میں قوت ہی نہیں ہے اتنی

یا تِری راہ پہ چلنا ہی نہیں چاہتا میں

سنتا رہتا ہوں صدائیں تِری دستک کی مگر

اپنے کمرے سے نکلنا ہی نہیں چاہتا میں

یہ بھی سچ ہے کہ سنبھلنا ہے ضروری میرا

یہ بھی سچ ہے کہ سنبھلنا ہی نہیں چاہتا میں


سرفراز خالد

No comments:

Post a Comment