سازشیں تقدیر سے کیں جب مِری تدبیر نے
تب مجھے قیدی بنایا عقد کی زنجیر نے
حکمراں بھی مجھ سے راضی اور اپوزیشن بھی خوش
وہ سکھایا گُر مجھے میرے سیاسی پیر نے
کچھ ہوئے نارنگئے، کچھ ہو گئے فاروقئے
یہ تماشا بھی دکھایا ہے ادب کی کھیر نے
اپنی محبوبہ کو لے کر ہو گیا گھر سے فرار
عصرِ نو میں کی ترقی عاشقِ دلگیر نے
جان دے دی عشق میں ہم کس قدر نادان تھے
عالمِ برزخ میں رانجھے سے کہا یہ ہیر نے
چمچگی اپنی جگہ،۔ اپنی جگہ کفگیریت
جو نہ چمچے سے ہوا اس کو کِیا کفگیر نے
عالمِ بالا میں جب پہنچا ظفر میرا کلام
داد دی غالب نے، سودا نے، سخن کے میر نے
ظفر کمالی
No comments:
Post a Comment