جاتے ہوئے ادھر بھی وہ جانا، نہ ہو گیا
آئینہ خانہ دل کا، پری خانہ ہو گیا
لکھتا تھا سوزِ دل کا میں اس شمع رو کے تئیں
کاغذ بھی تاؤ کھا پرِ پروانہ ہو گیا
زنجیر زلف کی تِرے حلقوں میں یک بیک
ایسا گرا میں اسکی نظر سے کہ بعدِ مرگ
میرے کبھو مزار تلک آ نہ ہو گیا
اس ناقدر شناس کی خدمت میں دوستاں
بدلا مِری وفا کا جریمانہ ہو گیا
حاتؔم کا دل تھا شیشہ کی مانند بزم میں
ساقی کے فیضِ دست سے پیمانہ ہو گیا
شاہ حاتم
(شیخ ظہور حاتم)
(شیخ ظہور حاتم)
No comments:
Post a Comment