غم نہیں ثابت قدم کو گو جہاں گردش میں ہے
قطب کو جنبش نہیں ہے آسماں گردش میں ہے
حیف ہے بے نشہ اس مے خانے میں انساں رہے
روز و شب جام مہ خورشید یاں گردش میں ہے
تیغ ابرو جس قدر چاہے برش پیدا کرے
پار اترے کیا سلامت بحرِ الفت سے کوئی
سیکڑوں گرداب اسکے درمیاں گردش میں ہے
گرد پھرنے کا تِرے سودا ہوا ہے ہم کو یار
ہر گھڑی ہر وقت ہر دم، ہر زباں گردش میں ہے
دائرے میں عشق کے جس نے کہ مارا ہے قدم
صفحۂ ہستی میں وہ پرکار ساں گردش میں ہے
خال و چشمِ یار کی تعریف ہو سکتی نہیں
تمکنت میں یہ زمیں وہ آسماں گردش میں ہے
جستجو میں تیری انجم کی طرح اے ماہِ حسن
ذرہ ذرہ ہو کے خاکِ عاشقاں گردش میں ہے
گنبدِ گردوں سے نکلوں جس طرح سے ہو سکے
ڈر ہے گِر پڑنے کا آتشؔ، یہ مکاں گردش میں ہے
حیدر علی آتش
No comments:
Post a Comment