پاسِ رسوائی سے دل مردے کا سا جبر ہے
ضبط نالہ ہجر کی شب میں فشارِ قبر ہے
صاف میرے آنسوؤں کا تار ہے اِس کی جھڑی
دیدۂ تر کا کسی عاشق کے رومال ابر ہے
پہلے پروانے سے مغز شمع میں لگتی ہے آگ
کوچۂ محبوب میں میں، خانۂ کعبہ میں شیخ
بت کدے میں برہمن، آتش کدے میں گبر ہے
مصحفِ رخ کی تلاوت میں ہوا ہے دَم فنا
نور سے ایمان کے روشن ہماری قبر ہے
کان کھولے رکھتے ہیں سن رکھ اسے اے وصلِ یار
اختیار آگے تِرا اب ہجر ہم کو جبر ہے
شغل میخواری چمن میں چل کے آتشؔ کیجیے
فرش سبزے کا، لبِ جو ہے، ابر ہے
حیدر علی آتش
No comments:
Post a Comment